اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، محمد نزال، جو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، نے کہا ہے کہ مزاحمت کو صرف عسکری سرگرمیوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے سیاسی، سماجی اور عوامی پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں، جبکہ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کا راستہ بھی بدستور کھلا ہوا ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد نزال نے کہا کہ مزاحمت کے پاس اب بھی متعدد طاقت کے عناصر موجود ہیں اور اسے صرف حماس تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مزاحمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار سماجی، شہری اور سیاسی شعبوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں مختلف طریقوں سے جدوجہد جاری رہتی ہے۔
حماس کے رہنما نے قاہرہ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ حماس نے ان مذاکرات میں اپنی شرکت مؤخر نہیں کی، کیونکہ اب تک اس سلسلے میں کسی مخصوص تاریخ کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔
محمد نزال نے مزید کہا کہ سیاسی حل کا آپشن اب بھی موجود ہے اور متعلقہ فریقوں، بشمول امریکہ، کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اور سفارتی ذرائع کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا گیا اور یہ راستہ اب بھی زیر غور ہے۔
آپ کا تبصرہ